6 مئی 2026 - 23:00
حصۂ دوئم | آبنائے ہرمز میں بھی امریکہ کی جگ ہنسائی؛ الٹی کاروائی، بدلتے قواعد/ ناکامی پر ناکامی

امریکیوں نے زمینی کاروائی کے لئے بڑی تمہیدیں باندھ لی تھیں اور اچانک معلوم ہؤا کہ وہ اصفہان کے جنوب میں ـ ایک گرائے گئے لڑاکا طیارے کے پائلٹ کو نجات دلانے کے بہانے ـ ایرانی یورینیم چوری کرنے کے لئے زمینی کاروائی کی ہمت کی ہے۔ یہ کاروائی شروع ہونے سے پہلے ناکام ہو گئی اور ٹرمپ کے فوجیوں کو ایک ایف-15 لڑاکا طیارہ، دو c130 طیارے، دو A-10 طیارے، چار سے چھ ہیلی کاپٹر ـ بہت ساری اہم دستاویزات اور کچھ لاشیں چھوڑ کر ـ بھاگنا پڑا [---]

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛

- ایسی کوئی رات یا ایسا دن نہیں ہے کہ ٹرمپ، صحراؤں میں بھٹکتے ہوئے اکیلے بھیڑیئے کی طرح نہ چلّائے؛ لیکن نہ تو جارحیت کے پہلے دن کی طرح، نہ اس میں کوئی اثر ہے اور نہ ہی کوئی جان و رمق۔

** جنگ سے پہلے، نہ سی آئی اے نے، نہ ہی پینٹاگون نے اس جارحیت کے نتائج کے بارے میں بدگمانی کا کوئی اظہار نہیں کیا، وہ سب اس کے نتائج سے اس قدر مطمئن تھے۔ کسی نے بھی نہیں کہا تھا کہ کاروائی اس فراز سے اس نشیب تک گر سکتی ہے؛ چنانچہ انہوں نے پلان B کا انتظام ہی نہیں کیا تھا۔

- چاپلوس "عالیشان ہے یہ منصوبہ، بادشاہ سلامت" کہتے رہے، اور جو ناقدین کچھ قابل تھے اور اہلیت رکھتے تھے، انہیں حکومت اور وزارت جنگ سے برخاست کیا گیا۔

** بدگمانی پر مبنی کوئی بھی اندازہ یا تخمینہ موجود نہیں تھا، کیونکہ ہاتھی کا بے عقل لشکر (اصحاب الفیل) اس وہم میں مبتلا تھا کہ جب وہ اسلامی نظام کی چوٹی پر حملہ آور ہونگے، کمانڈروں کو قتل کریں گے، اسلحے کے گوداموں اور کچھ میزائل لانچروں کو تین  دنوں کے دوران نشانہ بنائیں گے تو ایران آکر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر "ٹرمپ شاہ" کے گھٹنے چھوئیں گے!

- ایران نے کل (منگل 5 مئی 2026ع‍ کو) آبنائے ہرمز کے آس پاس اپنی تباہ کن صلاحیت کو ایک چھوٹا سا اشارہ غیر ملکی دشمنوں اور خطے کی ایک ریاست کے غدار حکمرانوں کو دکھایا۔

** کوئی بھی جہاز آبنائے ہرمز سے گذرنے کی ہمت نہیں کر سکتا؛ لیکن ایک بار معلوم ہؤا کہ فجیرہ کے تیل کی گذرگاہ ایران کے طاقتور ہاتھوں میں ہے اور جب بھی ارادہ کرے تیل کی اس شہہ رگ کو کاٹ دیتا ہے۔

- ممالک کے تیل کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں، خطے سے توانائی کی برآمدات کے زوال سے جنم لینے والا درد شدید سے شدیدتر ہو رہا ہے۔ منڈیوں کو بہلانے پھسلانے کے لئے ٹرمپ اور اس کی ٹیم کی نفسیاتی کاروائیاں مزید مؤثر نہیں اور ناکارہ ہو چکے ہیں۔ حالانکہ آبنائے باب المندب ابھی بند نہیں ہؤا ہے۔

** ایران کی منطق، معقول اور جائز و مشروع ہے۔ جرائم پیشہ جارح کو سزا ملنی چاہئے، ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا معاوضہ ملنا چاہئے۔

- آبنائے ہرمز کھول دیں گے لیکن اس کی کم از کم قیمت یہ ہے کہ ظالمانہ پابندیاں یکسر ختم ہوجائیں اور نام نہاد ناکہ بندی کو اٹھا لیا جائے۔

** ممالک اور حکومتوں کو، حتیٰ کہ اپنے ہی بنیادی مفادات کے لئے، امریکیوں کی غنڈہ گردی کے مسئلے کے نمٹا دیں؛ خاص طور پر اس وقت کہ ایک ملک اتنا طاقتور ہو گیا ہے جو اس سرکش غنڈے کو ادب و سبق سکھا رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔

نکات:

امریکیوں نے زمینی کاروائی کے لئے بڑی تمہیدیں باندھ لی تھیں اور اچانک معلوم ہؤا کہ وہ اصفہان کے جنوب میں ـ ایک گرائے گئے لڑاکا طیارے کے پائلٹ کو نجات دلانے کے بہانے ـ ایرانی یورینیم چوری کرنے کے لئے زمینی کاروائی کی ہمت کی ہے۔ یہ کاروائی شروع ہونے سے پہلے ناکام ہو گئی اور ٹرمپ کے فوجیوں کو ایک ایف-15 لڑاکا طیارہ، دو c130 طیارے، دو A-10 طیارے، چار سے چھ ہیلی کاپٹر ـ بہت ساری اہم دستاویزات اور کچھ لاشیں چھوڑ کر ـ بھاگنا پڑا اس کاروائی میں امریکیوں کی عظیم عالمی شکست کو ایران میں "طبس-2" کا نام دیا گیا اور اس نے 1980 میں طبس کے مقام پر ہونے والی ناکام امریکی کاروائی کی یاد تازہ کر دی۔ اس کاروائی کے بعد ہی ٹرمپ نے جنگ بندی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر پاکستانی حکام پر زبردست دباؤ ڈالنے کا آغاز کیا تھا۔۔۔ اور کل آبنائے ہرمز میں بھی امریکہ نے ابوظہبی کی مدد سے "فریڈم پروجیکٹ" کے عنوان سے ایک کاروائی کا آغاز کیا اور ایران کے خلاف جنگ کے معمول کے مطابق، پھر بھی ناکام ہوگیا اور ایک سمندری طبس یا طبس 3 رقم کر دیا۔ اب تک منظر عام پر آنے والی معلومات کے مطابق، ایک امریکی فریگیٹ، ایک ایم کیو-9 امریکی ڈرون، دو امریکی ڈسٹرائرز ایک فرانسیسی جہاز ـ جو ان دو جہازوں کی حفاظت میں جا رہا تھا ـ، چند اماراتی بحری جہاز یا تباہ ہوگئے یا نقصان سے دوچار ہوئے۔ ایک ایئرفیولنک امریکی طیارہ لاپتہ ہو گیا، امریکیوں نے عمان سے ایران آتی ہوئی چھوٹی سامان بردار کشتیوں کو نشانہ بنا کر تیزرفتار فوجی کشتیوں پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ بہرصورت بحری المیے کے تجربے سے بھی گذرنا پڑا ہے، اور جس کے بعد ٹرمپ نے پسپائی کے اعلان کے لئے پاکستان کی درخواست کا بہانہ بنایا اور کہا کہ مذاکرات ہو رہے ہیں، کہ گویا اس سے قبل وہ بھول گیا تھا کہ مذاکرات ہو رہے ہیں!: بہرحال بحری طبس یا طبس-3 بھی رقم ہؤا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: محمد ایمانی، کالم نگار

تحریر و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha